Monday, 7 November 2016

پاکستان کے خلاف بدنام زمانہ تنظیموں ’را‘ اور ’داعش‘ کا گٹھ جوڑ

24 اکتوبر کی رات AK-47(کلاشنکوف) رائفلوں سے مسلح اور خودکش جیکٹیں پہنے تین دہشت گرد کوئٹہ میں واقع  پولیس تربیتی مرکز میں داخل ہوئے اور دیوانہ وار فائرنگ کرنے لگے۔ اس کی زد میں آکر 62 سے زائد پولیس کیڈٹ شہید ہوگئے جب کہ سیکڑوں زخمی ہوئے۔یہ ایک نہایت بزدلانہ حملہ تھا جو نہتے کیڈٹوں پر کیا گیا۔
بعدازاں آئی جی فرنٹیرکور، میجر جنرل شیرافگن نے انکشاف کیا کہ تینوں دہشت گرد افغانستان میں بیٹھے اپنے لیڈروں سے احکامات لے رہے تھے۔ ان میں سے دو تاجک تھے اور ایک افغان! پاکستانی سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے  تینوں دہشت گرد ہلاک کرڈالے۔ ان کا تعلق داعش (ISIS) سے تھا۔ جب کہ لشکر جھنگوی العالمی نے انھیں حملہ کرنے کی سہولت و مدد فراہم کی تھی۔

اندرونی مسائل میں اُلجھی بھارتی فوج جنگ چھیڑ سکتی ہے؟

’’یہ حکمرانوں کی خوش قسمتی ہے کہ عام لوگ بالعموم غور و فکر نہیں کرتے۔‘‘ (جرمن لیڈر، ایڈلف ہٹلر)
18 ستمبر کو اڑی، مقبوضہ کشمیر میں نامعلوم افراد نے بھارتی فوج کے بریگیڈ ہیڈ کوارٹر پر ہلّہ بولا اور اٹھارہ فوجی مار ڈالے۔ اس حملے کے بعد بھارت میں جیسے زلزلہ آگیا۔ دھڑا دھڑ طبل جنگ بجنے لگے اور بھارتی میڈیا نے پاکستان کے خلاف زوردار لڑائی چھیڑ دی۔ یوں محسوس ہونے لگا کہ بس دھنادھن توپیں چلنے ہی والی ہیں۔ حتیٰ کہ بھارتی حکومت نے ’’سرجیکل سٹرائیکس‘‘ کا ڈرامہ تخلیق کرڈالا۔ بھارتی عوام نے سرزمین پاک پر ان حملوں کو خراج تحسین پیش کیا اور ہر جانب مودی حکومت کی واہ واہ ہوگئی۔