24 اکتوبر کی رات AK-47(کلاشنکوف) رائفلوں سے مسلح اور خودکش
جیکٹیں پہنے تین دہشت گرد کوئٹہ میں واقع پولیس تربیتی مرکز میں داخل ہوئے
اور دیوانہ وار فائرنگ کرنے لگے۔ اس کی زد میں آکر 62 سے زائد پولیس کیڈٹ
شہید ہوگئے جب کہ سیکڑوں زخمی ہوئے۔یہ ایک نہایت بزدلانہ حملہ تھا جو نہتے
کیڈٹوں پر کیا گیا۔
بعدازاں آئی جی فرنٹیرکور، میجر جنرل شیرافگن نے انکشاف کیا کہ تینوں دہشت گرد افغانستان میں بیٹھے اپنے لیڈروں سے احکامات لے رہے تھے۔ ان میں سے دو تاجک تھے اور ایک افغان! پاکستانی سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تینوں دہشت گرد ہلاک کرڈالے۔ ان کا تعلق داعش (ISIS) سے تھا۔ جب کہ لشکر جھنگوی العالمی نے انھیں حملہ کرنے کی سہولت و مدد فراہم کی تھی۔
بعدازاں آئی جی فرنٹیرکور، میجر جنرل شیرافگن نے انکشاف کیا کہ تینوں دہشت گرد افغانستان میں بیٹھے اپنے لیڈروں سے احکامات لے رہے تھے۔ ان میں سے دو تاجک تھے اور ایک افغان! پاکستانی سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تینوں دہشت گرد ہلاک کرڈالے۔ ان کا تعلق داعش (ISIS) سے تھا۔ جب کہ لشکر جھنگوی العالمی نے انھیں حملہ کرنے کی سہولت و مدد فراہم کی تھی۔